کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے
جو گزرے صید کے جی پر، اسے شہباز کیا سمجھے
رِہا کرنا ہمیں صیّاد اب پامال کرنا ہے
پھڑکنا بھی جسے بھولا ہو سو پرواز کیا سمجھے
نہ پہنچے داد کو ہرگز ترے کوچے کا فریادی
کسی کے شورِ محشر میں، کوئی آواز کیا سمجھے
نہ پوچھو مجھ سے میرا حال ٹک دنیا میں جینے دو
خدا جانے میں کیا بولوں، کوئی غماز کیا سمجھے
کہا چاہے تھا کچھ تجھ سے میں لیکن دل دھڑکتا ہے
کہ میری بات کے ڈھب کو تو اے طناز کیا سمجھے
جو گزری رات میرے پر کسے معلوم ہے تجھ بن
دلِ پروانہ کا جز شمع کوئی راز کیا سمجھے
نہ پڑھیو یہ غزل سودا تُو ہرگز میر کے آگے
وہ ان طرزوں سے کیا واقف وہ یہ انداز کیا سمجھے
محمد رفیع سودا
گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
ہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں
نہ دیکھا جو کچھ جام میں جم نے اپنے
سو یک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں
یہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاری
تجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں
غرض کفر سے کچھ نہ دیں سے ہے مطلب
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
حباب لب جو ہیں اے باغباں ہم
چمن کو ترے کوئی دم دیکھتے ہیں
نوشتے کو میرے مٹاتے ہیں رو رو
ملائک جو لوح و قلم دیکھتے ہیں
مٹا جائے ہے حرف حرف آنسوؤں سے
جو نامہ اسے کر رقم دیکھتے ہیں
اکڑ سے نہیں کام سنبل کی ہم کو
کسی زلف کا پیچ و خم دیکھتے ہیں
خدا دشمنوں کو نہ وہ کچھ دکھائے
جو کچھ دوست سے اپنے ہم دیکھتے ہیں
ستم سے کیا تو نے ہم کو جو خوگر
کرم سے ترے ہم ستم دیکھتے ہیں
مگر تجھ سے رنجیدہ خاطر ہے سوداؔ
اسے تیرے کوچے میں کم دیکھتے ہیں
محمد رفیع سودا
آدمؑ کو جب تخلیق کیا گیا
تو مٹی میں فقط قالب نہیں ڈالا گیا،
اس میں تنہائی کی ایک خاموش صدا بھی رکھ دی گئی۔
فرشتے سجدے میں تھے،
عرش پر تسبیح کی لہریں تھیں،
مگر آدمؑ کے سینے میں ایک خلا تھا—
ایسا خلا جو صرف “ہم” سے بھر سکتا تھا۔
تب حکم ہوا:
“اے آدم! تُو اکیلا نہیں رہے گا۔”
حوّاؑ کو آدمؑ سے نہیں، آدمؑ کے لیے پیدا کیا گیا۔
پسلی سے نہیں،
بلکہ قرب کی علامت کے طور پر۔
وہ قرب جو نہ فاصلے مانگتا ہے،
نہ دلیل—
بس سکون چاہتا ہے۔
جب آدمؑ نے آنکھ کھولی
تو حوّاؑ سامنے تھیں،
نہ تعارف درکار تھا،
نہ سوال—
کیونکہ روحیں پہچان چکی تھیں۔
یہ وہ محبت تھی
جس میں لمس سے پہلے امانت تھی،
نگاہ سے پہلے حیا تھی،
اور خواہش سے پہلے اطمینان۔
پھر وہ لمحہ آیا
جب جنت سے زمین تک کا سفر لکھا گیا۔
یہ کوئی سزا نہیں تھی،
یہ محبت کی آزمائش تھی۔
فرش پر اترتے وقت
آدمؑ کے ہاتھ میں حوّاؑ کا ہاتھ تھا،
اور آنکھوں میں آنسو—
مگر دل میں ایک ہی دعا:
“یا رب! ہمیں جدا نہ کرنا۔”
زمین پر پہلی رات
کوئی محل نہ تھا،
کوئی چراغ نہ تھا،
مگر دو دل تھے
جو ایک ہی خوف،
ایک ہی امید،
اور ایک ہی رب کی طرف جھکے ہوئے تھے۔
یہ وہ محبت تھی
جس میں خطا کے بعد بھی واپسی تھی،
جس میں توبہ ساتھ ساتھ بہی،
اور جس نے انسان کو سکھایا:
محبت اگر خدا سے جڑی ہو
تو جنت چھن بھی جائے
تو قرب نہیں چھنتا۔
آدمؑ اور حوّاؑ کی محبت
کوئی افسانہ نہیں،
یہ انسان کی اصل ہے۔
یہ ہمیں بتاتی ہے کہ:
محبت پہلے آسمان پر پیدا ہوتی ہے،
زمین پر آزمائی جاتی ہے،
اور رب کی رضا میں پناہ پاتی ہے۔
آج بھی جب کوئی دل
کسی دوسرے دل میں
سکون تلاش کرتا ہے،
تو دراصل وہ
آدمؑ کی تنہائی
اور حوّاؑ کے قرب
کو یاد کر رہا ہوتا ہے۔
یہی ہے وہ داستان
جو عرش سے فرش تک پھیلی ہوئی ہے—
خاموش،
گہری،
اور ہمیشہ زندہ
-----------
نامعلوم
نا معلوم